السلام علیکم
صبح بخیر

1899 امراؤ جان ادا
مرزا محمد ہادی رسوا

ع ہم کو بھی کیا کیا مزے کی داستانیں یاد ہیں 
لیکن اب تمہید ذکر درد ماتم ہو گئیں
اس شعر سے ناول کا آغاز ہوتا ہے

ع کس کو سنائیں حال دل زار اے ادا
آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی
مشاعرے کا آغاز اس شعر سے ہوا

ع نہ پوچھو ہم سے کیوں کر زندگی کے دن گزرتے ہیں
کسی بے درد کی فرقت میں نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
مرزا رسوا کے ذریعے پڑھی گئی غزل کا مطلع

کردار

امیرن امراؤ جان ادا 
دلاور خان امیرن کو اغوا کرنے والا
پیر بخش دلاور کا دوست
جمعدار امیرن کے والد
کریمن امیرن کی سہیلی
بوا حسینی نے امیرن کی پرورش کی
خانم امیرن کو سوا سو روپے میں خریدنے والی
بسم اللہ جان خانم کی لڑکی
مولوی صاحب بوا حسینی کے شوہر
گوہر مرزا امراؤ جان ادا کا گل چیں اول
فضل علی ڈاکو
نصیبن ایک رنڈی
رام دئی یہ بھی اغوا شدہ

بنگلہ فیض آباد کا پرانا نام

Comments

Popular posts from this blog