ترقی پسند تحریک انقلاب روس سے متاثر تھی جس کے تحت محنت کش طبقہ کے حقوق کے لئے جنگ کا آغاز کیا گیا تھا.  اس انقلاب کا اثر پوری دنیا کے ادب بھی پڑا . اردو ادب پر بھی اس کا گہرا اثر ہوا. . اور شعراء و ادیبوں کے سامنے یہ بات عیاں ہوئی کہ ایک ایسے دور میں جب کہ دنیا دو طبقوں ( سرمایہ دار اور محنت کش) کے درمیان تقسیم ہے اور سرمایہ دار طبقہ ، غریب مزدوروں،  کسانوں،  کا بری طرح استحصال کررہا ہے، ان حالات سے ادب منہ نہیں موڑ سکتا اور شاعر و ادیب غیر جانبدار نہیں رہ سکتے.  انہیں اسے ادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جو اصل سماج اور سماج رہ لوگوں کی زندگی کا عکس ہو.  ادب کو حسن و عاشقی ، سراب و شباب ، دیومالائی عناصر کی دلدل سے باہر نکلنا ہوگا؛ کیونکہ حالات کا تقاضہ بدل رہا ہے اور اب ہمیں ایسے ادب کی ضرورت ہے جو  ہم مینں جوش، حرکت اور ہنگامہ پیدا کرنے،  جو مظلوم طبقوں کے حق کے لئے آواز بلند کرے اور سرمایہ داروں کے ظلم کے خلاف جنگ لڑے.

Comments

Popular posts from this blog